22 اشعار

نذر وطن

Nazr-e-Watan

نذر وطن

«نذر وطن» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

نذر وطن پھر اے دل دیوانہ چاہئےپھر ہر قدم پہ سجدۂ شکرانہ چاہئے

پھر سر زمیں وطن کی ہے نظروں کے سامنےپھر لب پہ ایک نعرۂ مستانہ چاہئے

بچپن کی یاد لیتی ہے پھر دل میں چٹکیاںپھر بے خودی بہ حجت طفلانہ چاہئے

برسوں کے بعد آئے ہیں باغ وطن میں ہمپھر ہر کلی کو سجدۂ مستانہ چاہئے

کہسار سبز پوش نظر آئے دور سےپھر لب پہ چار بیت کا افسانہ چاہئے

جس کوچے میں ہوئیں کبھی رسوائیاں نصیباس کا طواف با دل دیوانہ چاہئے

بخشا تھا جس نے پہلے پہل دل کو درد عشقپھر اس کے در پہ سجدۂ شکرانہ چاہئے

پھر دل کو ہو یقیں نہ کسی کے وصال کاپھر واقعہ بہ صورت افسانہ چاہئے

پھر شوق سے ملیں گے کسی گلعذار سےپھر لب پہ شور بلبل مستانہ چاہئے

جھولا جھلائیں‌ گے کسی مست شباب کورقصاں فضا میں پھر مئے‌ و مے خانہ چاہئے

پائے طلب کو وادئ پرویں ہے نیم گامپھر آرزو کو منزل جانانہ چاہئے

پھر خرمن سکوں کو ہیں درکار بجلیاںپھر بے حجاب جلوۂ جانانہ چاہئے

پھر ذوق مے کشی کو ہے معراج کی طلبکوثر کا بادہ چاند کا پیمانہ چاہئے

پھر شوق بن کے دل میں دھڑکتی ہے زندگیپھر جنبش تبسم جانانہ چاہئے

پھر سینۂ امید میں رقصاں ہے برق طورپھر پرسش مذاق کلیمانہ چاہئے

بالائے کوہ سایۂ ابر بہار میںپروین و ماہتاب کا کاشانہ چاہئے

پھر اس حریم نور کے آغوش ناز میںاک گل کدہ برنگ پری خانہ چاہئے

پھر ابر و باغ و نکہت و گل کے ہجوم میںشمع و سرو و بادہ و پیمانہ چاہئے

پھر اس کی چشم مست پہ گیسو ہوں پر فشاںپھر ابر شام گوں سر مے خانہ چاہئے

پھر چاندنی میں دامن دریا یہ اے ندیمرقص شراب و گردش پیمانہ چاہئے

جوش‌ طرب نے حشر سا دل میں کیا بپاپھر بے خودی کو گریۂ مستانہ چاہئے

اخترؔ وطن میں آ کے کھلا ہے یہ حسن رازاس مختصر سی عمر میں کیا کیا نہ چاہئے

— اختر شیرانی