12 اشعار

مامتا

Mamta

مامتا

«مامتا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

وہ جذبہ جو نسائی جذبوں کی مُنتہا ہےدُنیا میں نام اس کا اک ماں کی مامتا ہے

آغوشِ ناز گنجِ اقبال سے بھرا ہےیا خوابِ رُوح مستِ تعبیر ہو رہا ہے

رہ رہ کے مامتا کا اظہار کر رہی ہےبے تاب ہو رہی ہے اور پیار کر رہی ہے

جذبات مادری کا اعجاز کہئے اس کوروحانیت سے لبریز اک ساز کہئے اس کو

حوّا کے سوزِ جاں کی پرواز کہئے اس کوفطرت کے دردِ دل کی آواز کہئے اس کو

الفت کی انتہائیں چہرے پہ چھا گئی ہیںدل کی اُمیدیں کھنچ کر چہرے پہ آ گئی ہیں

جو نونہال زیبِ آغوشِ مدعا ہے !اک پاک راز بن کر سینے میں رہ چکا ہے !

اب بھی مگر یہ عالم اک ماں کے پیار کا ہے !گویا وہ راز اس کے دل میں ہی سو رہا ہے !

دیوانہ وار اس کے گالوں کو چومتی ہے!آنکھوں کو چومتی ہے ، بالوں کو چومتی ہے !

دنیا یہی ہے اور اس کی دین بھی یہی ہےپہلوئے سادگی کی تزئین بھی یہی ہے

غم ہائے زندگی میں تسکین بھی یہی ہےہاں ماں کی مامتا کا آئین بھی یہی ہے

بچے سے خوش پر اُن کے خوابوں میں کھو رہی ہےاک آںکھ ہنس رہی ہے اک آنکھ رو رہی ہے ​

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں