14 اشعار

چڑیوں کی شکایت

Chiriyon ki Shikayat

چڑیوں کی شکایت

«چڑیوں کی شکایت» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

چڑیوں نے بے طرح ستایا ہےمیرے کمرے کو گھر بنایا ہے

چھت پہ ان کو جہاں ملی ہے جگہاک نہ اک گھونسلہ بنایا ہے

عین میرے پلنگ کے اوپرہے جو حصہ وہ ان کو بھایا ہے

تار بجلی کا ہے جو چھت پہ لگاوہ تو میراث ہی میں پایا ہے

کوئی کھونٹی ہو طاق ہو در ہوان کی جاگیر میں وہ آیا ہے

سر پہ بیٹوں کا مینہ برستا ہےبے ڈھب ایسا یہ ابر چھایا ہے

تکیہ پر میز پر کتابوں پرمہر کا سا نشاں بنایا ہے

حصہ مجھ کو بھی کچھ ملا ہے ضرورجب چڑا تنکے لے کر آیا ہے

ان کی چوں چوں کا راگ سن کر دلگانا سننے سے تنگ آیا ہے

سب کے سر پر خدا کا ہے سایہمجھ پہ ان کے پروں کا سایہ ہے

اس قدر بیٹ کرتی ہیں کم بختناک میں دم ہر ایک کا آیا ہے

صبح سے لڑ رہی ہیں آپس میںسر پہ سارا مکان اٹھایا ہے

پڑھ نہیں سکتا لکھ نہیں سکتااس قدر شور و غل مچایا ہے

ایسا معلوم ہوتا ہے گویامیرا کمرہ نہیں پرایا ہے

— اختر شیرانی