18 اشعار

شملے کی ریل گاڑی

Shimle ki rail gaadi

شملے کی ریل گاڑی

«شملے کی ریل گاڑی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

سولن کی چوٹیوں سےجھنڈی ہلا رہی ہے

غصے میں بے تحاشاسیٹی بجا رہی ہے

دیکھو وہ آ رہی ہےشملے کی ریل گاڑی

دو انجنوں کے منہ سےشعلے نکل رہے ہیں

دو ناگ مل کے گویادوزخ اگل رہے ہیں

آنکھیں دکھا رہی ہےشملے کی ریل گاڑی

سنسان گھاٹیوں پراونچی پہاڑیوں میں

پتھریلی چوٹیوں پرٹیلوں میں جھاڑیوں میں

لہراتی آ رہی ہےشملے کی ریل گاڑی

لوہے کی ایک ناگنبل کھا رہی ہو جیسے

اور اونچی چوٹیوں پرلہرا رہی ہو جیسے

اس طرح آ رہی ہےشملے کی ریل گاڑی

بن باسیوں کو کیا کیادل شاد کر رہی ہے

سنسان جنگلوں کوآباد کر رہی ہے

بستی بسا رہی ہےشملے کی ریل گاڑی

نکلی سرنگ سے یوںجوں بل سے ناگ نکلے

چمکی سرے پہ جیسےبھٹی سے آگ نکلے

کیا گل کھلا رہی ہےشملے کی ریل گاڑی

— اختر شیرانی