11 اشعار

کہانی کا سماں

Kahani ka samaan

کہانی کا سماں

«کہانی کا سماں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

مری پیاری انا میری انا جانیسنا دے مجھے کوئی ایسی کہانی

کہ جس میں پرستان کا سا سماں ہوزمیں پھول کی چاند کا آسماں ہو

ستارے برستے ہوں جس کی فضا میںہو خوشبو کا طوفان جس کی ہوا میں

جہاں شہد و شربت کی نہریں رواں ہوںجہاں ہیرے یاقوت کی کشتیاں ہوں

اور ان میں کوئی گیت گاتی ہوں پریاںشعاعوں کے بربط بجاتی ہوں پریاں

پہاڑ اس میں جتنے ہوں سارے طلائیاور ان کے سہانے نظارے طلائی

اندھیرا نہ ہو نام کو بھی جہاں میںہو اک چاند روشن ہر اک شمع داں میں

محل ہو ہر اک سنگ مرمر کا جس میںہر اک طاق ہو لعل و گوہر کا جس میں

نہ بوڑھا ہو کوئی نہ کوئی جواں ہوفقط میں ہوں اور میری انا وہاں ہو

مرے پر ہوں اڑتا پھروں میں ہوا میںحکومت ہو میری وہاں کی فضا میں

غرض میری انا مری انا جانیسنا دے مجھے کوئی ایسی کہانی

— اختر شیرانی