7 اشعار

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

Laraz utha hai mere dil mein kyun na jaane diya

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

«لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا» اختر شمار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیاترا پیام تو خاموش سی ہوا نے دیا

جلا رہا تھا مجھے میں نے بھی جلانے دیااجالا اس نے دیا بھی تو کس بہانے دیا

ابھی کچھ اور ٹھہر جاتا میرے کہنے پروہ جانے والا تھا خود ہی سو میں نے جانے دیا

وہ اپنی سیر کے قصے مجھے سناتا رہامجھے تو حال دل اس نے کہاں سنانے دیا

میں شکر اس کا نہ کیسے ادا کروں جاناںشعور مجھ کو محبت کا جس خدا نے دیا

کرم کے پل میں یہ روشن ہوا بحمداللہنہیں بجھے گا مرا تجھ سے اے زمانے دیا

شمارؔ سامنے اس کے بھی گفتگو کے وقتجو رنگ چہرے پہ آیا تھا میں نے آنے دیا

— اختر شمار