9 اشعار

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

Zara si der thi bas ik diya jalana tha

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

«ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا» اختر شمار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھااور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا

میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھکہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا

وگرنہ کون اٹھاتا یہ جسم و جاں کے عذابیہ زندگی تو محبت کا اک بہانہ تھا

یہ کون شخص مجھے کرچیوں میں بانٹ گیایہ آئنہ تو مرا آخری ٹھکانہ تھا

پہاڑ بھانپ رہا تھا مرے ارادے کووہ اس لیے بھی کہ تیشہ مجھے اٹھانا تھا

بہت سنبھال کے لایا ہوں اک ستارے تکزمین پر جو مرے عشق کا زمانہ تھا

ملا تو ایسے کہ صدیوں کی آشنائی ہو!تعارف اس سے بھی حالانکہ غائبانہ تھا

میں اپنی خاک میں رکھتا ہوں جس کو صدیوں سےیہ روشنی بھی کبھی میرا آستانہ تھا

میں ہاتھ ہاتھوں میں اس کے نہ دے سکا تھا شمارؔوہ جس کی مٹھی میں لمحہ بڑا سہانا تھا

— اختر شمار