7 اشعار

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا

Uski chah mein naam nahin aane wala

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا

«اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا» اختر شمار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والااب میرا انجام نہیں آنے والا

حسن سے کام پڑا ہے آخری سانسوں میںاور وہ کسی کے کام نہیں آنے والا

میری صدا پر وہ نزدیک تو آئے گالیکن زیر دام نہیں آنے والا

ایک جھلک سے پیاس کا روگ بڑھے گا اوراس سے مجھے آرام نہیں آنے والا

عشق کے نام پہ تیرا رنگ نہ بدلے یارتجھ پر کچھ الزام نہیں آنے والا

کام کو بیٹھے ہیں اور سر پر آئی شاملگتا ہے اب کام نہیں آنے والا

کیوں بے کار اس شخص کا رستہ دیکھتے ہووہ تو شمارؔ اس شام نہیں آنے والا

— اختر شمار