7 اشعار

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

Tere baghair masaafat ka gham kahan kam hai

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

«ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے» اختر شمار کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہےمگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے

مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کرمری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے

تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کیتو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے

اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمنوہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ہے

اگرچہ شہر میں پھیلی کہانیاں ہیں بہتکوئی بھی سننے سنانے کو داستاں کم ہے

نگاہ و دل پہ کھلی ہیں حقیقتیں کیسییہ دل اداس زیادہ ہے شادماں کم ہے

اب اس سے بڑھ کے بھی کوئی ہے پل صراط ابھیمیں جی رہا ہوں یہاں جیسے امتحاں کم ہے

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں