13 اشعار

گرد باد

gard-baad

بگولاخاک زادہ فرش افتادہ

ہوا جاروب کرتی ہے تو اس کا جسم ڈھلتا ہےسفر کی گردشیں سودائے باطن منتشر سوچیں

ہیولے سا بگولابے شباہت قیس زادہ

شہر کی گلیوں میں چکراتا ہےخود میں چیختا پل میں کئی قرنوں کے بل کھاتا ہے

گرد زرد کا جھولابگولا

ہجر زادہ بلکہ ہجرت زادصحرا سے ابھی بستی میں آیا تھا

ڈرے سہمے ہوئے لوگوں کی آنکھیں حشر بستہ تھیںابھی دو چار گلیاں طے نہ ہو پائیں

خم و پیچ اس کی رہ میں آئےذرے کسمسائے

جسم کے اعضا جھڑےآہستہ آہستہ اڑان اندوہ میں بدلی

اور اب لوگوں کے قدموں میں کوئی واماندہ گردبے کنارہ فتادہ ہے

فردا کی دھن میں کوئی ہو بس اک ہیولیٰ ہےمرے باطن میں جو کچھ پیچ کھاتا ہے

ہیولیٰ یا بگولا ہےمیں پانی اور مٹی سے بہت ڈرتا ہوں

ہجرت سے گزرتا ہوںابھرتا ہوں بکھرتا ہوں

— اختر عثمان