6 اشعار

زر ناب

zar-e-naab

اک خواب کے فاصلے پہ لہو ہےکہسار کے سرمئی کنارے

وادی سے شفق اچھالتے ہیںجی میں یہ بھرا ہوا سنہرا

بھیتر میں رکا ہوا دسہرہکاغذ پہ نمو کرے گا کب تک

اے حرف ستارہ ساز اب تواٹھتی ہے قنات روشنی کی

ظلمت کا شعار ہے اکہراخفتہ ہے جہت جہت اجالا

امکاں ہے بسیط اور گہرا

— اختر عثمان