10 اشعار

شش جہت

shash jehat

لمحۂ نو عظیم ہےسوزش دل ہے کیا بلا جذب و جنوں بھی کچھ نہیں

سانجھ سماج ہیچ ہیں رشتہ خوں بھی کچھ نہیںحسرت و آرزو کی نے بندش و بستگی کی لے

دمدمۂ قدیم ہےعہد کہن گزر گیا لمحۂ نو عظیم ہے

آج کا سحر بے بدل آج کی لو عظیم ہےعطر کی روح میں بسی عصر کے روپ میں رچی

پھوٹتی پو عظیم ہے یہ تگ و دو عظیم ہےبحر جدید اوج موج اس میں گہر ہیں موج موج

سطح بہ سطح سب صدف نور کی رو عظیم ہےتازہ ترین یہ جہاں تازہ نجوم و آسماں

ان کی جھلک جدا جدا ان کا جلو عظیم ہےاور ہے اس کی تاب و تب اور ہے چال اور چھب

جو خد و خال ہوں سو ہوں آئنہ تو عظیم ہےلمحۂ نو عظیم ہے

اس میں ریاستوں کا دھن سارے نشاطسب محن

عیش کا دل و بدن غارت زندگی کا فنایک بٹن کا مرحلہ

— اختر عثمان