10 اشعار

میں کیا کہتا تھا

main kya kehta tha

میں یہ کہتا تھا کہ نوحہ نہ کہوکھیلتی تتلیوں ہنستی ہوئی کلیوں کے قصیدے لکھو

یہ جو امکاں میں کوئی باس دمکتی ہےاسے لفظ میں لاؤ کسی دل میں لکھے

لفظ جو دل کے دباؤ کو گھٹا دیتا ہےدل جو اک حشر اٹھا دیتا ہے

میں یہ کہتا تھاچہکتی ہوئی چڑیوں کے لیے گیت لکھو

ان درختوں سے لپٹ جاؤںجو جلتے ہیں مگر سایہ کناں رہتے ہیں

ورنہ دل صرف خزاں رہتے ہیںابر کی بات کرو

اشک تہ چشم دبے رہنے دومیں یہ کہتا تھا

کہیں دور کھنکتی ہوئی قلقاری کواپنے احساس کی کیاری میں نمو پانے دو

وہ جو فردا کے چمن میں ہے نگار ممکناسے الفاظ کی مہکار میں سو جا نے دو

میں یہ کہتا تھامگر کیا میں یہی کہتا تھا

— اختر عثمان