8 اشعار

بت ساز

but-saz

میں نے کیا سوچ کے صحرا میں دکاں کھولی ہےلب لعلیں کے تصور میں منگائے یاقوت

نجم لایا ہوں کہ ترتیب ہو سلک دنداںمہ یک رو بھی تو درکار ہے ابرو کے لئے

دور افق پار سے تھوڑی سی شفق لایا ہوںخون میں گوندھ کے بھٹی میں تپاؤں گا اسے

تب کہیں سرخیٔ رخسار ہویدا ہوگیمیں نے تیار کیا خاک کواکب سے خمیر

کچھ نہیں کچھ بھی نہیں آج عزا خانے میںآج خس خانۂ خواہش میں فقط راکھ ہے راکھ

وہ کسی دست ہنر ور کا تراشا ہوا تلکف ضو ریز کو شرماتا تھا ماہ کامل

وہ تری ساعد سیمیں کا زمرد بھی خجلکچھ نہیں کچھ بھی نہیں آج عزا خانے میں

آج بھی سوچتا ہوں اپنے جنوں میں آ کرمیں نے کیا سوچ کے صحرا میں دکاں کھولی تھی

— اختر عثمان