14 اشعار

شام

shaam

تو آ گئی شامسرمئی وحشت و ہزیمت کے سائے سائے

میں درد ہا درد اک نئی نظم بن رہا ہوںدرخت آسیب زادگاں دیو پیکراں

چہچہے کراہیںیہ پات نوحے پہ سینہ کوبی میں گم عزا دار

شاخچے برچھیوں کے پھلغنچے زخم نا آشنائے مرہم

گھنے درختوں میںزمزمہ ساز اپنی اپنی دھنوں کو ترتیب دے رہے ہیں

لہکتے پتوں کی تالیوں میںحنائی ہاتھوں کے تھپتھپانے کا لمس ہے

شاخچوں کے پردوں سے منہ نکالے ہوئے یہ غنچےکسی کو آواز دے رہے ہیں

نگار نکہت نے حجلۂ گل کا پردہ پردہ دیا ہےوہ ہونٹ آواز دے رہے ہیں

یہ بعد کیا ہے؟حیات و موت اور شادی و غم کے سلسلوں

میں یہ بعد کیا ہےظروف و احوال کے فسانے میں سب مظاہر

جدا جدا ہیںمیں اپنے ہونے میں سانحہ ہوں کہ

واقعہ ہوں؟جو ایک منظر مجھے رلائے

وہی پرندے کی چونچ پر کھل کے چہچہائےپھر آ گئی شام

سرمئی وحشت و ہزیمت کے سائے سائے

— اختر عثمان