28 اشعار

نئے سر کی تمثیل

naye sur ki tamsil

کامنی خواب کی لو میں ہنستی ہوئی کامنیسولہ برس کی تقویم میں فصل گل کا کوئی تذکرہ

تک نہ تھامیں نے بتیس بتیس جھڑ رتیں کاٹ دیں

اب جو تمثیل کے ایک وقفے میں تم سے ملا ہوںتو سانسوں میں نم چال میں ان زمانوں کا رم

جی اٹھا ہےجو عہد زمستاں میں یخ تھے

سقر سا سقرکامنی خندۂ گل کی کل زندگی

ایک گلچیں کی وحشت بھری آنکھ ہےیہ چٹکنا یہ کھلنا

بہت سحر آور سہی جاگنے اور سونے میں اکخواب موہوم سے کچھ زیادہ نہیں

خواب و خواہش عجب سلسلہ ہےبہت دور بہتی ہوئی آبشاروں کا اک سلسلہ

جس میں کوہ تذبذب کی خوشبو بھی ہےعہد و پیماں کا جادو بھی

خوں سے سروں تکسروں سے اس اک لفظ تک

جس میں راگوں کا جوہر بندھا ہےکہیں ایمنی رس کہیں ماروا ٹھاٹھ بھاگیشری

بھیرویں اور پہاڑیوہ سب کچھ جو اپنے لہو میں دہکتا چہکتا ہے

جس کے تناظر میں ہم بیست و شش سالپہلے بندھے تھے

انہی آبشاروں سے مجھ کو صدا آ رہی ہےسو میں جا رہا ہوں

نئے سر اٹھانےکہ سرگم کی فرسودگی دیدہ و دل بجھانے لگی ہے

نیا سر جسے لفظ ترتیب دیتے ہیںپہنچے تو جانو کہ صانع کے لفظوں سے اٹھتی نمی تم

تک آئیپس عمر کا حاصل فن جیسے صرفۂ جاں

کہیں کچھ نہیںبیست و شش سال در خدمت فن بسر کردہ ام

بہ چشم نم اوراق تر کردہ امدر فقیری گزر کردہ ام

حرف سر کردہ امیہ جو لفظوں کی پیغمبری ہے نہ ہوتی تو عبرت

سرا میں بھلا کون جیتامیں لفظوں میں سسکارتا ہوں

سنا تم نے سرنغمۂ تازہ کا یہ کتنے قرنوں سے دل میں کسی

سل کی صورت جما تھایہ جوئے رواں تم تک آئی مگر کتنے

خورشید و مہتاب آہنگبنتے ہوئے بجھ گئے

کتنے دن گل ہوئےکتنی راتیں ڈھلیں

خیر کیسا حسابایسے نغموں میں خوں اور چراغوں کے روغن کا ایک

پرسہ کسے دوںبھلا کوئی عزا دار ہے

پرسہ داروں کی تمثیل میں کوئی وقفہ نہیں

— اختر عثمان