غزل 7 اشعار

یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں

Ye mohabbat ki jawani ka saman hai ki nahin

یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیںاب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیں

دامن رند بلا نوش کو دیکھ اے ساقیپرچم خواجگئ کون و مکاں ہے کہ نہیں

مسکراتے ہوئے گزرے تھے ادھر سے کچھ لوگآج پر نور گذر گاہ‌ زماں ہے کہ نہیں

حسن ہی حسن ہے گلزار جنوں میں رقصاںعشق کا عالم صد رنگ جواں ہے کہ نہیں

راہ پر آ ہی گئے آج بھٹکنے والےراہبر دیکھ وہ منزل کا نشاں ہے کہ نہیں

لاکھ گرداب و تلاطم سے گزر کر اے دوستاب سفینہ مرا ساحل پہ رواں ہے کہ نہیں

تذکرے اپنے ہر اک بزم میں ہیں اے اخترؔآج مہمل سی حدیث دگراں ہے کہ نہیں

— اختر انصاری اکبر آبادی