غزل 7 اشعار

ںہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں

Na jaane qafile poshida kis ghubar mein hain

نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیںکہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیں

بچا بچا کے گزرنا ہے دامن ہستیشریک خار بھی کچھ جشن نو بہار میں ہیں

کسی جدید تلاطم کا انتظار نہ ہوسنا تو ہے کہ سفینے ابھی قرار میں ہیں

پکارتے ہیں کہ دوڑو گزر نہ جائے یہ دورچراغ بجھتے ہوئے سے جو رہ گزار میں ہیں

ابھی تو دور ہے منزل یہ قافلوں کے ہجومابھی تو مرحلۂ جبر و اختیار میں ہیں

ابھی بہار نے سیکھی کہاں ہے دل جوئیہزار داغ ابھی قلب لالہ زار میں ہیں

نکھر نکھر کے جو مسموم کر رہے ہیں فضاکچھ ایسے پھول بھی اخترؔ نئی بہار میں ہیں

— اختر انصاری اکبر آبادی