غزل 5 اشعار

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا

Zaban band rahi dil ka muddaa na kaha

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہامگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہا

محیط شوق میں ہم ڈوبتے ابھرتے رہےخدا گواہ کبھی جور نا خدا نہ کہا

صنم کدہ ہے کہ اک محفل خدا ونداںبہت خفا ہوا وہ بت جسے خدا نہ کہا

ہزار خضر نما لوگ راستوں میں ملےہمارے دل نے کسی کو بھی رہنما نہ کہا

یہ کائنات تو ہے خیر مجھ سے بیگانہاگر نگاہ نے تیری بھی آشنا نہ کہا

— اختر انصاری اکبر آبادی