غزل 7 اشعار

نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو

Na raaz-e-ibtida samjho na raaz-e-intiha samjho

نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھونظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھو

طلب میں صدق ہے تو ایک دن منزل پہ پہنچو گےقدم آگے بڑھاؤ خود کو اپنا رہنما سمجھو

یہ کیا انداز ہے اتنا گریز اہل تمنا سےخدا توفیق دے تو اہل دل کا مدعا سمجھو

تمہارے ہر اشارے پر سر تسلیم خم لیکنگزارش ہے کہ جذبات محبت کو ذرا سمجھو

ہو کوئی موج طوفاں یا ہوائے تند کا جھونکاجو پہنچا دے لب ساحل اسی کو ناخدا سمجھو

جسے دیکھو وہی بدمست ہی مغرور ہے ہمدمکوئی بندہ نہیں دنیا میں کس کس کو خدا سمجھو

یہاں رہبر کے پردے میں بہت رہزن ہیں اے اخترؔرہو دور اس سے تم جس کو وفا نا آشنا سمجھو

— اختر انصاری اکبر آبادی