غزل 6 اشعار

یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورت

Yun badalti hai kahin barq-o-sharar ki surat

یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورتقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورت

زلف کی آڑ میں تھی جان نظر کی صورترات گزری تو نظر آئی سحر کی صورت

ان کے لب پر ہے تبسم مری آنکھوں میں سرورکیا دکھائی ہے دعاؤں نے اثر کی صورت

قافلے والو نئے قافلہ سالار آئےاب بدل جائے گی انداز سفر کی صورت

کیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کاتھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت

اب کوئی حوصلہ افزائے ہنر ہے اخترؔاب نظر آئے گی ارباب ہنر کی صورت

— اختر انصاری اکبر آبادی