غزل 7 اشعار

شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو

Shairo hadd-e-qadamat se nikal kar dekho

شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھوداستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھو

کیوں ہو تقلید کلیم آج بھی اے دیدہ ورودیدنی ہو کوئی جلوہ تو سنبھل کر دیکھو

شمع و پروانہ کا انداز نیا ہے کہ نہیںذکر تھا جس کا اب اس بزم میں چل کر دیکھو

اور بھی رخ نظر آئیں گے تجلی کے ابھیرخ نگاہوں کے ذرا اور بدل کر دیکھو

اگلے وقتوں کے فسانے نہ سناؤ یارونئے ماحول کے سانچے میں بھی ڈھل کر دیکھو

کل کے انداز بھی دل کش تھے یہ تسلیم مگرآج بھی شہر نگاراں میں نکل کر دیکھو

اپنے احباب کی جانب نہ اٹھاؤ نظریںدیکھنا ہے اگر اخترؔ تو سنبھل کر دیکھو

— اختر انصاری اکبر آبادی