غزل 5 اشعار

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں

Rahne de ye tanz ke nashtar ahl-e-junun bebak nahin

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیںکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیں

جب تھا زمانہ دیوانوں کا اب فرزانے آئے ہیںجب صحرا میں لالہ و گل تھے اب گلشن میں خاک نہیں

فتنوں کی ارزانی سے اب ایک اک تار آلودہ ہےہم دیکھیں کس کس کے دامن ایک بھی دامن پاک نہیں

موج تلاطم خیر ہیں ہم ساحل کے قریب آتے ہی نہیںوقت کی رو میں بہہ جائیں ہم ایسے خس و خاشاک نہیں

درد و کرب سے حشر بپا ہونٹوں پہ تبسم ہے اخترؔدل کا عالم کچھ بھی رہے آنکھیں تو مگر نمناک نہیں

— اختر انصاری اکبر آبادی