غزل 6 اشعار

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا

Yaron ke ikhlas se pahle dil ka mere ye haal na tha

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھااب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھا

انساں آ کر نئی ڈگر پر کھو بیٹھا ہے ہوش و حواسپہلے بھی بے ہوش تھا لیکن ایسا بھی بد حال نہ تھا

گلشن گلشن ویرانی ہے جنگل جنگل سناٹاہائے وہ دن جب ہر منزل میں شورش غم کا کال نہ تھا

کیوں رے دوانے شہر یہی ہے اک اک پل بھاری ہے جہاںاپنے ویرانے میں اے دل جی کا یہ جنجال نہ تھا

ہم جو لٹے اس شہر میں جا کر دکھ لوگوں کو کیوں پہنچااپنی نظر تھی اپنا دل تھا کوئی پرایا مال نہ تھا

تیری خاک پہ روشن روشن اخترؔ جیسے ستارے تھےتجھ سا اے مہران کی وادی کوئی بلند اقبال نہ تھا

— اختر انصاری اکبر آبادی