غزل 7 اشعار

فسردہ ہو کے میخانے سے نکلے

Fasurda ho ke maikhane se nikle

فسردہ ہو کے میخانے سے نکلےیہاں بھی اپنے بیگانے سے نکلے

شفق کا رنگ گہرا کر گئے اورجو شعلے میرے کاشانے سے نکلے

ذرا اے گردش دوراں ٹھہرناوہ نکلے رند میخانے سے نکلے

غم دل کا اثر ہر بزم میں ہےسب افسانے اس افسانے سے نکلے

کیا آباد ویرانے کو ہم نےہمیں آباد ویرانے سے نکلے

جو پہنچے دار تک منصور تھے وہہزاروں رند میخانے سے نکلے

نکلتے ہم نہ غم خانے سے اخترؔحسیں موسم کے بہکانے سے نکلے

— اختر انصاری اکبر آبادی