5 اشعار

بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہا

Ba-qadar-e-shauq jo ab un ka aasra na raha

بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہاجئے تو جاتے ہیں جینے کا حوصلہ نہ رہا

اسی کو ہم نے منایا اسی کو چھیڑیں گےخفا بھی ہو کے جو ہم سے بہت خفا نہ رہا

خیال میں بھی یہ آئے تو سانس رک جائےکہ ہم سے ان سے محبت کا واسطہ نہ رہا

ہمیں کچھ ان سے تھے شکوے مگر اسی حد تککہ مسکرا کے سنا اور کوئی گلہ نہ رہا

غم فراق ذرا سی تو آس رہنے دےکہیں ملے تو کہیں گے رضاؔ رضاؔ نہ رہا

— آل رضا رضا