5 اشعار

سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھا

Soch kya is ka mila kya aur kya matloob tha

سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھاخواب ہی ٹھہرا تو جتنی دیر دیکھا خوب تھا

آگ دے دے کر بحد آشیاں یہ انتقامتنکا تنکا کیوں کسی کو اس قدر محبوب تھا

وہ نگاہوں کے پیام اور وہ پیاموں کی بہاردیکھیے میری طرف وہ بھی زمانہ خوب تھا

اب تو سودائے محبت ہے فقط دیوانگیورنہ سودائے محبت کا بھی اک اسلوب تھا

کب کھلا عقدہ رضاؔ جب کر چکے اظہار شوقمدعا جائز تھا حرف مدعا معیوب تھا

— آل رضا رضا