7 اشعار

جو خود نہ اپنے ارادے سے بد گماں ہوتا

Jo khud na apne irade se bad-guman hota

جو خود نہ اپنے ارادے سے بد گماں ہوتاقدم اٹھاتے ہی منزل پہ کارواں ہوتا

یہ لطف ان کے تغافل میں پھر کہاں ہوتاجو اک لطیف تبسم نہ درمیاں ہوتا

کھلے ہیں پھول جو ایسے میں تم چلے آتےیہ اہتمام بہاراں نہ رائیگاں ہوتا

دماغ عرش پہ ہے جس کی دھن میں وہ سجدہمرے نصیب میں ہوتا تو میں کہاں ہوتا

سمجھ تو یہ کہ نہ سمجھے خود اپنا رنگ جنوںمزاج یہ کہ زمانہ مزاج داں ہوتا

بھری بہار کے دن ہیں خیال آ ہی گیااجڑ نہ جاتا تو پھولوں میں آشیاں ہوتا

حسین قدموں سے لپٹی ہوئی کشش تھی جہاںوہیں تھا دل بھی رضاؔ اور دل کہاں ہوتا

— آل رضا رضا