7 اشعار

کب پھول کھلیں شغل چھڑے جامہ دری کا

Kab phool khilen shughl chhiṛe jama-dari ka

کب پھول کھلیں شغل چھڑے جامہ دری کادیوانوں کو چسکہ ہے اسی خوش خبری کا

سوئے تھے سر شام کھلی پچھلے پہر آنکھمنہ دیکھ کے اٹھے ہیں چراغ سحری کا

کچھ اپنی طرف میری نگاہوں سے بھی دیکھواس رخ سے بھی اک باب کھلے خود نگری کا

ناساز ہوائے پر پرواز نہ ہو جائےموسم تو گیا خیر سے بے بال و پری کا

یہ چاند یہ سورج یہ اندھیرا یہ اجالامنہ دیکھ رہا ہے سفری ہر سفری کا

قائم نہیں رہتی ہیں کسی شے پہ نگاہیںاب کوئی ٹھکانا ہے پریشاں نظری کا

فطرت ہی سے ملتی ہے رضاؔ داد سخن بھیجب فرض ادا ہوتا ہے پیغامبری کا

— آل رضا رضا