5 اشعار

دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پر

Din hai bhaari gham-e-furqat ke giraftaron par

دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پررات کٹتی ہے دہکتے ہوئے انگاروں پر

حسن والوں کی خدائی ہے خدائی برہمکس کو رحم آئے محبت کے گنہگاروں پر

پھونک دے برق نشیمن کو چمک کر نہ ڈرائےآنکھیں اب رکھی نہیں جاتی ہیں انگاروں پر

دل کی قیمت نہیں کوئی کہ یہی ایک ہے دلمیں نے خود چھوڑ دیا مول خریداروں پر

عاشقی کو جو گدائی سے ملایا نہ رضاؔتو رعونت کا بھی الزام ہے خودداروں پر

— آل رضا رضا