غزل 9 اشعار

آنکھ کچھ بے سبب ہی نم تو نہیں

Aankh kuch be-sabab hi nam to nahin

آنکھ کچھ بے سبب ہی نم تو نہیںیہ کہیں آپ کا کرم تو نہیں

ہم نے مانا کہ روشنی کم ہےپھر بھی یہ صبح شام غم تو نہیں

عشق میں بندشیں ہزار سہیبندش دانہ و درم تو نہیں

تھا کہاں عشق کو سلیقۂ غموہ نظر مائل کرم تو نہیں

مونس شب رفیق تنہائیدرد دل بھی کسی سے کم تو نہیں

وہ کہاں اور کہاں ستم گاریکچھ بھی کہتے ہوں لوگ ہم تو نہیں

شکوے کی بات اور ہے ورنہلطف پیہم کوئی ستم تو نہیں

دیکھ اے قصہ گوئے رنج فراقنوک مژگان یار نم تو نہیں

ان کے دل سے سوال کرتا ہےیہ تبسم شریک غم تو نہیں

— علی جواد زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں