غزل 8 اشعار

ہم سفر گم راستے نا پید گھبراتا ہوں میں

Hum-safar gum raaste na-paid ghabrata hoon mein

ہم سفر گم راستے نا پید گھبراتا ہوں میںاک بیاباں در بیاباں ہے جدھر جاتا ہوں میں

بزم فکر و ہوش ہو یا محفل عیش و نشاطہر جگہ سے چند نشتر چند غم لاتا ہوں میں

آ گئی اے نامرادی وہ بھی منزل آ گئیمجھ کو کیا سمجھائیں گے وہ ان کو سمجھاتا ہوں میں

ان کے لب پر ہے جو ہلکے سے تبسم کی جھلکاس میں اپنے آنسوؤں کا سوز بھی پاتا ہوں میں

شام تنہائی بجھا دے جھلملاتی شمع بھیان اندھیروں میں ہی اکثر روشنی پاتا ہوں میں

ہمت افزا ہے ہر اک افتاد راہ شوق کیٹھوکریں کھاتا ہوں گرتا ہوں سنبھل جاتا ہوں میں

ان کے دامن تک خود اپنا ہاتھ بھی بڑھتا نہیںاپنا دامن ہو تو ہر کانٹے سے الجھاتا ہوں میں

شوق منزل ہم سفر ہے جذبۂ دل راہبرمجھ پہ خود بھی کھل نہیں پاتا کدھر جاتا ہوں میں

— علی جواد زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں