غزل 9 اشعار

کم ظرف احتیاط کی منزل سے آئے ہیں

Kam-Zarf Ihtiyaat Ki Manzil Se Aaye Hain

کم ظرف احتیاط کی منزل سے آئے ہیںہم زندگی کے جادۂ مشکل سے آئے ہیں

گرداب محو رقص ہے طوفان محو جوشکچھ لوگ شوق موج میں ساحل سے آئے ہیں

یہ وضع ضبط شوق کہ دل جل بجھا مگرشکوے زباں پہ آج بھی مشکل سے آئے ہیں

آنکھوں کا سوز دل کی کسک تو نئیں ملیمانا کہ آپ بھی اسی محفل سے آئے ہیں

یہ قشقۂ خلوص ہے زخم جبیں نہیںہر چند ہم بھی کوچۂ قاتل سے آئے ہیں

دل کا لہو نگاہ سے ٹپکا ہے بارہاہم راہ غم میں ایسی بھی منزل سے آئے ہیں

دل اک اداس صبح نظر اک اداس شامکیسے کہیں کہ دوست کی محفل سے آئے ہیں

چھیڑا تھا نوک خار نے لیکن گماں ہواتازہ پیام پردۂ محمل سے آئے ہیں

ہاں گائے جا مغنی بزم طرب کہ آجنغمے تری زباں پہ مرے دل سے آئے ہیں

— علی جواد زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں