89 اشعار

خضر راہ

خضر راہ

خضر راہ

«خضر راہ» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر

گوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیر

تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار

موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر

انجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک جہاں پیما خضر

جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے‌‌ اسرار ازل

چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوا

میں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکار

جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتیٔ مسکین و جان پاک و دیوار یتیم

علم‌ موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد

زندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہے

اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاک

نوجواں اقوام‌ نو دولت کے ہیں پیرایہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی

فطرت‌ اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیٰ

خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب-خضر

صحرانوردیکیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے

یہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہین خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں

گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام

وہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و میلوہ نمود‌ اختر سیماب پا ہنگام صبح

یا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئیلوہ سکوت‌ شام صحرا میں غروب آفتاب

جس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بین خلیلاور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواں

اہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبیلتازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش

اور آبادی میں تو زنجیری کشت و نخیلپختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگی

ہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگیزندگی

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگیہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپجاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگی

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہےسر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھجوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آباور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی

آشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سےگرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباباس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار توپختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرے

خاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے

سوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے صفیررات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

سلطنتآ بتاؤں تجھ کو رمز آیۂ ان الملوک

سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگریخواب سے بے دار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحریجادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز

دیکھتی ہے حلقۂ گردن میں ساز دل بریخون اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میں

توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسم سامریسروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذریاز غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن

تا تراشی خواجۂ از برہمن کافر تریہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصریدیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پریمجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق

طب‌‌ مغرب میں مزے میٹھے اثر خواب آوریگرمئ گفتار اعضائے مجالس الاماں

یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگریاس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو

آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے توسرمایہ و محنت

بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دےخضر کا پیغام کیا ہے یہ پیام کائنات

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ‌‌ دار حیلہ گرشاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃ

ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات

نسل قومیت کلیسا سلطنت تہذیب رنگخواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات

کٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیات

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دارانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک

نغمۂ بیداریٔ جمہور ہے سامان عیشقصۂ خواب آور اسکندر و جم کب تلک

آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہواآسمان ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

توڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمامدوریٔ جنت سے روتی چشم آدم کب تلک

باغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلک

کرمک ناداں طواف شمع سے آزاد ہواپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو

دنیائے اسلامکیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں

مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و سازلے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل

خشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجازہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ

جو سراپا ناز تھے ہیں آج مجبور نیازلے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارس

وہ مے سرکش حرارت جس کی ہے مینا گدازحکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی

ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گازہو گیا مانند‌ آب ارزاں مسلماں کا لہو

مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے رازگفت رومی ہر بنائے کہنہ کآباداں کنند

می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنندملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں

حق ترا چشمے عطا کر دست غافل در نگرمومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست

مور بے‌ پر حاجتے پیش سلیمانے مبرربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات

ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبرپھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار دیں میں ہو

ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمرایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تا‌‌ بخاک کاشغرجو کرے گا امتیاز رنگ و خوں مٹ جائے گا

ترک خرگاہی ہو یا اعرابیٔ والا گہرنسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی

اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزرتا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگراے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش

اے گرفتار‌‌ ابوبکر و علی ہشیار باشعشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی

اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھتو نے دیکھا سطوت رفتار‌ دریا کا عروج

موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھعام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے

اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھاپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجود

مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر دیکھکھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں

آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھآزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس

سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھمسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار

ہر زماں پیش نظر لایخلف المیعاد دار

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں