13 اشعار

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

«روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے خواجہ اشرف نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!

اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!

بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ!ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں

یہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ ہوائیں

تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ!

سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!

ناپید ترے بحر تخیل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے

تعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں

آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں

جنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میںاے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!

نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سے

تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سے

ہے راکب تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ!

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں