8 اشعار

فرمان خدا

فرمان خدا

فرمان خدا

«فرمان خدا» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے حسن شبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دوکاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سےکنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہجو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردےپیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

حق را بسجودے صنماں را بطوافےبہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھا دو

میں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سےمیرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

تہذیب نوی کار گہہ شیشہ گراں ہےآداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں