7 اشعار

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام

Ḍhūñḍ rahā hai Farang ‘aish-e-jahāñ kā davām

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام

«ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دواموائے تمنائے خام وائے تمنائے خام

پیر حرم نے کہا سن کے میری رویدادپختہ ہے تیری فغاں اب نہ اسے دل میں تھام

تھا ارنی گو کلیم میں ارنی گو نہیںاس کو تقاضا روا مجھ پہ تقاضا حرام

گرچہ ہے افشائے راز اہل نظر کی فغاںہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رندانہ عام

حلقۂ صوفی میں ذکر بے نم و بے سوز و سازمیں بھی رہا تشنہ کام تو بھی رہا تشنہ کام

عشق تری انتہا عشق مری انتہاتو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی نا تمام

آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا رازورنہ ہے مال فقری سلطنت روم و شام

— علامہ اقبال