7 اشعار

دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

Digar-gūñ hai jahāñ tāroñ kī gardish tez hai sāqī

دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

«دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کییہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کیعلاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتاکہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ زاروں سےوہی آب و گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانیبہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

— علامہ اقبال