7 اشعار

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

Asar kare na kare sun to le merī faryād

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

«اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریادنہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاککرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گلیہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد

قصوروار غریب الدیار ہوں لیکنترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہےوہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیںوہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیںانہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

— علامہ اقبال