9 اشعار

عقل گو آستاں سے دور نہیں

‘Aql go āstāñ se dūr nahīñ

عقل گو آستاں سے دور نہیں

«عقل گو آستاں سے دور نہیں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے عون کبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

عقل گو آستاں سے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیں

دل بینا بھی کر خدا سے طلبآنکھ کا نور دل کا نور نہیں

علم میں بھی سرور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

کیا غضب ہے کہ اس زمانے میںایک بھی صاحب سرور نہیں

اک جنوں ہے کہ با شعور بھی ہےاک جنوں ہے کہ با شعور نہیں

ناصبوری ہے زندگی دل کیآہ وہ دل کہ ناصبور نہیں

بے حضوری ہے تیری موت کا راززندہ ہو تو تو بے حضور نہیں

ہر گہر نے صدف کو توڑ دیاتو ہی آمادۂ ظہور نہیں

ارنی میں بھی کہہ رہا ہوں مگریہ حدیث کلیم و طور نہیں

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں