6 اشعار

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

Apnī jaulāñ-gāh zer-e-āsmāñ samjhā thā maiñ

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

«اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میںآب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسماک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں

کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیامہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تماماس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

کہہ گئیں راز محبت پردہ داری ہائے شوقتھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں

تھی کسی درماندہ رہ رو کی صدائے دردناکجس کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا میں

— علامہ اقبال