8 اشعار

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

Anokhī waẓ‘ hai sāre zamāne se nirāle haiñ

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

«انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیںیہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوںجو تھے چھالوں میں کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں

پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کاجگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کینرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں

نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کینشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سےٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں

امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کویہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں

مرے اشعار اے اقبالؔ کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کومرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ دردانگیز نالے ہیں

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں