7 اشعار

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

Hazar khauf ho lekin zaban ho dil ki rafeeq

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

«ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیقیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میںفقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتاغریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائبخدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدمبغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد عتیق

مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہتہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب تصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانینہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

— علامہ اقبال