7 اشعار

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ

I‘jāz hai kisī kā yā gardish-e-zamānah

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ

«اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ

تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایااہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائییا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانیشاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

اے لا الٰہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میںگفتار دلبرانہ کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھےکھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ

راز حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہےہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

— علامہ اقبال