7 اشعار

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل

Khudi ho ilm se muhkam to ghairat-e-Jibreel

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل

«خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریلاگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میںکہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل

فریب خوردۂ منزل ہے کارواں ورنہزیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل

نظر نہیں تو مرے حلقۂ سخن میں نہ بیٹھکہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل

مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیںکہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل

اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے توترے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرمنہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل

— علامہ اقبال