7 اشعار

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

Khudi woh bahr hai jis ka koi kinara nahin

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

«خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیںزجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں

خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیںمگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں

ترے مقام کو انجم شناس کیا جانےکہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں

یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہےتری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں

مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچاناوہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرتکہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں

— علامہ اقبال