9 اشعار

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

Kushada dast-e-karam jab woh be-niyaz kare

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

«کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرےنیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظخدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقیجو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے

مدام گوش بہ دل رہ یہ ساز ہے ایساجو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے

کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہےجو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

سخن میں سوز الٰہی کہاں سے آتا ہےیہ چیز وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے

تمیز لالہ و گل سے ہے نالۂ بلبلجہاں میں وا نہ کوئی چشم امتیاز کرے

غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کوکہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔاڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے

— علامہ اقبال