12 اشعار

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

Majnoon ne shahr chhoda to sehra bhi chhod de

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

«مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دےنظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے

واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراددنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے

تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشیرستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے

مانند خامہ تیری زباں پر ہے حرف غیربیگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے

لطف کلام کیا جو نہ ہو دل میں درد عشقبسمل نہیں ہے تو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے

شبنم کی طرح پھولوں پہ رو اور چمن سے چلاس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے

ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنابت خانہ بھی حرم بھی کلیسا بھی چھوڑ دے

سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہےاے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقللیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

جینا وہ کیا جو ہو نفس غیر پر مدارشہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے

شوخی سی ہے سوال مکرر میں اے کلیمشرط رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے

واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میںاقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے

— علامہ اقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں