7 اشعار

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

Mata-e-be-baha hai dard-o-soz-e-arzoo-mandi

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

«متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندیمقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیایہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کومری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میںکہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھیسکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میریکہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کوکہ فطرت خود بہ خود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

— علامہ اقبال