6 اشعار

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

Na aate humein is mein takraar kya thi

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

«نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھیمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

تمہارے پیامی نے سب راز کھولاخطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑاتری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی

تأمل تو تھا ان کو آنے میں قاصدمگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی

کھنچے خود بخود جانب طور موسیٰکشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی

کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرافسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی

— علامہ اقبال